Tuesday, 10 September 2013

نور محل (بہاولپور) جہاں ملکہ نے صرف ایک رات بسر کی

Noor Mehal, where queen spent on one night


پاکستان کے تاریخی شہر بہاولپور میں واقع یہ نور محل 1872میں تعمیر کروایا گیا۔ یہ محل برطانوی راج کے دوران شاہی ریاست کے نواب صادق محمد خان (چہارم) نے بیوی کے لئے بنوایا تھا۔ دال ماش اور چاول کی آمیزش والے گارے سے بنے اس نور محل میں آنے والوں میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو بحالی بہاولپور صوبہ کی باتیں سن کر امیر ریاست کی پرشکوہ نشانیاں دیکھنے آتے ہیں۔ یہ یادگار نور محل اس وقت پاکستانی فوج کے قبضے میں ہے اور اب محل کے سیاہ و سفید کی وہی مالک ہے۔



روشنی کے لئے تین بڑے فانوس تھے جن پر روشندانوں سے روشنی پڑتی تو پورا دربار ہال جگمگا جاتا۔



ایک سو چالیس برس پہلے جب یہ نور محل تعمیر کیا گیا تو اس وقت بجلی کا نام و نشان تک نہیں ہوتا تھا جس کی اب کمی ہو جائے تو زندگی اجیرن ہو جاتی ہے۔



ڈیڑھ سو سال سے زیادہ پرانا فرنیچر آج بھی قابل استعمال ہیں


ٹھنڈک اور ہوا کے لئے اونچی چھتوں اور روشندانوں کے علاوہ محل کی بنیادوں میں سرنگوں کا ایک جال بچھایا گیا ہے جس میں پانی چھوڑا جاتا تھا اور مخصوص سمتوں پر بنے روشندانوں سے ہوا گزرتی جو پانی کی ٹھنڈک لئے فرش میں نصب جالیوں سے محل کے اندر پہنچتی تھی۔ یہ سرنگیں اب بھی موجود ہیں البتہ ان میں پانی نہیں چھوڑا جاتا ۔ فوجی میس میں ائر کنڈیشنڈ لگا دئے گئے ہیں ۔

چھت کے سامنے والے حصے میں کسی مصور نے ان حالات کی منظر کشی کرنے کی کوشش کی جب بنو عباس کا خاندان بغداد سے سمندر کے راستے برصغیر پہنچا اور بہاولپور ریاست قائم کی۔


بادشاہ نے یہ شاندار محل اپنی جس ملکہ نور کے لئے بنوایا تھا انہوں نے صرف ایک رات اس محل میں بسر کی۔ اگلی صبح وہ محل کے سب سے اوپر والی چھت پر گئیں تو محل کے باغات سے ملحق ایک قبرستان دیکھ کر بادشاہ کو کہا کہ آپ نے میرے لئے قبرستان میں گھر بنوادیا؟میں یہاں نہیں رہوں گی۔

ایک رات کے سواشاہی خاندان اس محل میں نہیں رہا۔



نور محل میں وہ پرانا پیانو اپنی اصلی حالت میں اب بھی موجود ہے۔ جو نواب نے ملکہ نور کے لئے بنوایا تھا۔وہ آئینہ بھی ہے جو بیلجیئم سے درآمد کیا گیا۔











No comments:

Post a Comment

Blogger Gadgets