Friday, 9 March 2012

World's Smallest Woman Jyoti Amge


آج کی خبر





دنیا کی سب سے پست قامت لڑکی جس کے حوصلے و جذبے نے اسے کئی قدآور لوگوں میں ممتاز کردیا
یہ 1993 کے وسط کی بات ہے، بھارتی شہر ناگ پور کی باسی، رنجنا امگی نے اپنے شکم کا اسکین کرایا۔ وہ 4  ماہ کی حاملہ تھی اور اُسے یقین تھا کہ اب بچہ اسکین میں نظر آ جائے گا ۔لیکن ڈاکٹر نے اسکین کیا توکچھ  نظر نہ آیا۔ ڈاکٹر نے اُسے بعد میں آنے کو کہا۔ چنانچہ افسردہ رنجنا گھر واپس چلی گئی۔
اگلا اسکین 3 ماہ ہوا جب حمل کے 9 مہینے پورے ہو چکے تھے۔ حیرت انگیز طور پر تب بھی چھوٹا سا دھبا ہی ظاہر ہوا۔ ڈاکٹر نے رنجنا اور اس کے شوہر کشن کو بتایا کہ بچے کی نشوونما صحیح نہیں ہوئی، اگر وہ زندہ پیدا بھی ہوا، تو دس پندرہ منٹ بعد موت اس کا مقدر بن جائے گی۔ یہ سن کر   میاں بیوی کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
مگر ڈاکٹروں کے سبھی اندازے غلط ثابت ہوئے۔ گو رنجنا کی بیٹی صرف 3 پائونڈ کی تھی، مگر وہ زندہ رہی۔ یہ رب تعالیٰ کا بڑا معجزہ تھا۔ اسی لیے ماں باپ نے بچی کا نام جیوتی رکھا، اس سنسکرت لفظ کے معنی ہیں ’’زندگی‘‘ یا ’’روشنی‘‘۔ جیوتی نے بھی اپنے نام کی لاج رکھی اور زندگی کو نیا مفہوم بنانے کا سبب بنی۔
جیوتی دراصل ماں کے پیٹ ہی میں ایک جینیاتی مرض، ایچونڈروپلاسیا (Achondroplasia) میں مبتلا ہو گئی تھی۔ یہ ٹھگنے پن کی ایسی قسم ہے جس میں کرکری ہڈی کی نشوونما میں نقص کے باعث انسان بڑھ نہیں پاتا۔ جب وہ 3 سال کی ہوئی، تب والدین کو اِس مرض کا پتا چلا کیونکہ جیوتی اِتنی عمر کی ہو جانے کے باوجود ننّی منی ’’کاکی‘‘ نظر آتی تھی۔ چنانچہ وہ اُسے ڈاکٹر کے پاس لے گئے۔ تب رنجنا اور کشن پر انکشاف ہوا کہ ان کی پیاری بچی معمول کے بچوں سے الگ ہے۔
شروع میں تو قدرتاً وہ غم و اندوہ کا شکار رہے لیکن جب انھوں نے دیکھا کہ سوائے پست قامتی کے، جیوتی میں کوئی خامی نہیں، تو انھوں نے مقدر کا لکھا قبول کرلیا۔ اُدھر جیوتی نے جوں جوں شعور سنبھالا، اس نے اپنے  ٹھگنے پن کے باعث احساسِ کمتری کا شکار ہونے سے انکار کردیا۔ اس کے برعکس جیوتی نے اپنی بظاہر خامی کو خوبی میں بدل ڈالا۔
ہوا یہ کہ پست قامتی کی وجہ سے جیوتی اپنے محلے میں مشہور ہو گئی۔ جب وہ 10 سال کی تھی، تو اس کا قد صرف ایک فٹ تھا اور وہ نوزائیدہ بچی نظر آتی لیکن وہ بالغ بچیوں کی طرح باتیں کرتی، تو سبھی اُسے دلچسپی سے دیکھتے۔  مرکزِ نگاہ بن کر جیوتی کو خوشی ہوتی۔ یوں مثبت طرزِفکر نے جیوتی پر غم و مایوسی کو طاری نہ ہونے دیا اور وہ عام بچوں کی طرح زندگی گزارنے لگی۔
البتہ جب وہ پہلی بار اسکول گئی، تو اُسے دیگر بچیوں میں بیٹھ کر کچھ خوف محسوس ہوا۔ ظاہر ہے، بڑی بڑی اجنبی لڑکیوں نے شروع میں اس کا مذاق اُڑایا۔ شاید کسی نے ڈرایا دھمکایا بھی ہوگا لیکن جب جماعت کی لڑکیاں اس سے گھل مل گئیں، تو انھیں یہ احساس ہوا کہ یہ بڑی    سادہ مزاج اور نیک طنیت لڑکی ہے۔ یوں جیوتی کی مقبولیت نے جماعت میں بھی قدم جما لیے۔
جماعت میں جیوتی ننّی منی میز کرسی پر بیٹھتی ہے۔ گھر میں بھی اس کا ننّا سا بستر ہے۔ کپڑے بھی خصوصی ڈیزائن کے تیار ہوتے ہیں۔ اس کی 2 بہنیں اور ایک بھائی ہے۔ چاروں مل جل کر رہتے ہیں۔ درحقیقت والدین اور   بھائی بہنوں کی مدد کے ذریعے ہی جیوتی میں خود اعتمادی آئی اور اس نے اپنی معذوری کو بوجھ نہیں سمجھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اداکارہ بننا جیوتی کی سب سے بڑی تمنا ہے۔ ابھی اسے کانڈا زبان کی ایک فلم میں کردار بھی مل گیا ہے لیکن وہ بالی وڈ جا کر’’خان بادشاہوں‘‘ کے ساتھ کام کرنا چاہتی ہے۔ شاہ رُخ اور سلمان خان اس کے پسندیدہ اداکار ہیں۔
مستقبل میں ممکن ہے کہ جیوتی کی خواہش پوری ہو جائے کیونکہ اب وہ دنیا کی سب سے ٹھگنی لڑکی ہونے کے باعث بین الاقوامی شہرت رکھتی ہے۔ پچھلے سال ماہِ دسمبر میں مختلف شعبہ ہائے زندگی کے ریکارڈ جمع کرنے والے مشہور برطانوی ادارے، گینز ورلڈ ریکارڈز کا ایک نمائندہ مع ڈاکٹرناگ پور پہنچا۔ انھوں نے پھر جیوتی کا قد ناپا اور طبی معاینہ کیا۔ 3 بار پیمائش کے ذریعے جیوتی کا قد  24 اعشاریہ 7 انچ اور وزن ساڑھے پانچ کلو ریکارڈ ہوا۔
جیوتی سے قبل  22 سالہ امریکی، بریجت جارڈن دنیا کی سب سے پست قامت لڑکی تھی لیکن جیوتی اس سے پورے 7 سینٹی میٹر چھوٹی نکلی۔ یوں وہ باضابطہ طور پر دنیا کی سب سے چھوٹی لڑکی یا صنف نسواں سے تعلق رکھنے والی رکن بن گئی۔ واضح رہے، جیوتی ان برتنوں میں کھانا کھاتی اور پانی پیتی ہے جو عموماً گڑیوں کے لیے بازار سے ملتے ہیں۔
جیوتی انسانی تاریخ میں سب سے پست قامت لڑکی نہیں۔ یہ اعزاز ہالینڈ کی پالین مسٹررز کو حاصل ہے جو 1876 تا 1895  زندہ رہی۔ وہ صرف  24انچ قد رکھتی تھی۔ چونکہ ٹھگنے انسانوں کی ہڈیاں بھربھری ہوتی ہیں لہٰذا وہ کم ہی جیتے ہیں۔ جیوتی بھی مسلسل دوائیں کھاتی ہے تاکہ تندرست رہے۔ ایجونڈریا پلاسیا پیدا ہونے والے 25 ہزار بچوں میں سے صرف ایک کو نشانہ بناتا ہے۔
جیوتی حقیقتاً اپنے پست قامت ہونے پر رب تعالیٰ کی شکرگزار ہے کیونکہ بقول اس کے اسی وجہ سے اسے دنیا بھر میں نام و مقام ملا۔ پھر گینز ریکارڈ ہولڈر کی حیثیت سے اسے یورپ اور جاپان کی سیر کرنے کا بھی موقع ملے گا۔ جیوتی کو اس اَمر پر بھی مسرت ہے کہ موصوفہ نے  عالمی نقشے میں ناگ پور کو نمایاں کردیا۔
جیوتی کی خوداعتمادی اس بات سے بھی عیاں ہے کہ وہ میٹرک پاس کر چکی ہے۔ اب وہ یونیورسٹی سے تاریخ یا معاشیات کے موضوع پر ڈگری لینا چاہتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ تعلیم یا علم ایسی دولت ہے جو ایک محتاج و غریب کو بھی نہال کر سکتی ہے۔
جیوتی بحیثیت انسان ہمارے سامنے ایک بڑا سبق بھی لاتی ہے۔ وہ یہ کہ کامیابی اور ناکامی کے پیمانے میں ایک انسان کا قد کوئی حیثیت و اہمیت نہیں رکھتا۔ کامیاب انسان وہی ہے جو تمام تر مشکلات کے باوجود اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائے۔ اس لحاظ سے جیوتی کو یقینا ایک فتح مند لڑکی تصور کیا جائے گا۔


No comments:

Post a Comment

Blogger Gadgets