Tuesday, 13 March 2012

Today's "Totka" (آج کا ٹوٹکا)


آج کا گھریلو ٹوٹکا
کیل مہاسے



میری ایک عزیزہ جس کی عمر اٹھارہ سال ہے۔ پچھلے سال سے اس کے چہرے پر کیل مہاسے نکل رہے ہیں۔ ڈاکٹر سے پوچھ کر علاج بھی کیا۔ خاص فرق نہیں پڑا۔ ناک کے آس پاس اور چہرے پر نشان پڑ گئے ہیں۔ جس کے بارے وہ اکثر پریشان رہتی ہے اور پوچھتی ہے کہ یہ کب ٹھیک ہوں گے۔ وہ چاہتی ہے کہ کسی طرح سے ان کی بڑھوتری کم ہو جائے۔                   


 یہ ایک عام مسئلہ ہے جو اکثر تیرہ برس کی عمر سے شروع ہو جاتا ہے۔ احتیاط کی جائے تو یہ ٹھیک ہو جاتا ہے۔ لڑکیوں کو اکثر یہ بات معلوم نہیں ہوتی کہ صفائی سب سے زیادہ ضروری ہے۔ چہرے کے دانوں کو باربار نہیں چھیڑنا چاہیے اور نہ ہی چھیلنا چاہیے۔ کوئی دانہ چھل جائے تو ہاتھ مت لگائیں بلکہ صاف ٹشو سے صاف کریں۔ ہاتھ لگانے سے کیل مہاسے بڑھ جاتے ہیں۔ چہرے کو صاف رکھنا چاہیے۔ جو بچیاں نماز پڑھتی ہیں، وہ دن میں پانچ بار وضو کرتی ہیں۔ چہرہ دن میں پانچ دفعہ دھلے تو صاف رہتا ہے۔اسی طرح قبض بھی نہیں ہونا چاہیے۔ صاف ستھری کچی پکی سبزیاں، موسمی پھل اور دہی کو اپنی غذا میں شامل کریں۔ چاکلیٹ، برگر، بازاری چیزیں، کولا مشروبات، گائے کا گوشت، چکنائی والی چیزیں کیل مہاسے زیادہ کرنے کاباعث ہیں۔ شہد کھائیے۔ نوجوان بچیوں کے لیے خون صفا دوائیاں بھی مفید ہیں۔ ہمدرد کی صافی پینے سے بھی فائدہ ہوتا ہے اوراکثرکو فائدہ ہوا ہے۔ چہرے کو چکنائی سے بچانا چاہیے۔اس مقصد کے لیے سب سے اچھی چیز بیسن ہے۔ تھوڑا سا بیسن لے کر اس سے مُنہ دھوئیے اور پھر گلاب کا عرق ضرور لگائیے۔ بیسن سے مُنہ دھویا جائے تو چکنائی ختم ہو جاتی ہے۔نیم کے پتے سکھا کر سفوف بنا لیا جائے اور اسے دانوں پر لگایا جائے تو دانے خشک ہو جاتے ہیں۔ اپنا تولیا اور صابن علیحدہ رکھیے۔ آپ کی تھوڑی سے احتیاط کیل مہاسوں کی بڑھوتری کو دور کرتی ہے اور سادی غذا قبض نہیں ہونے دیتی۔ آزما کر دیکھئے۔

No comments:

Post a Comment

Blogger Gadgets