Saturday, 10 March 2012

Aaj ka Totka (آج کا ٹوٹکا)

چہرے کی خوبصورتی

بازار میں طرح طرح کی کریمیں، لوشن، اسکرب نظر آتے ہیں جو لوگوں کی قوت خرید سے باہر ہیں۔ میک اپ کی چیزیں اتنی مہنگی اور قیمتی ہوتی ہیں کہ دیکھ کر دل چاہتا ہے اٹھا کر لے آئیںِ۔ غریب اور متوسط طبقے کی لڑکیاں کیا کریں؟ مہنگائی نے ہر شے پہنچ سے دور کر دی ہے۔ 
ان تمام باتوں کا حل یہ ہے کہ دکانوں میں جو چیزیں چمکتی دمکتی سجائی جاتی ہیں صرف اس لئے  سجائی جاتی ہیں لوگ خرید لیں۔ حالانکہ گھریلو چیزیں ان سے لاکھ درجے بہتر ہیں۔ 
کسی گھر میں ایک ملازمہ نوجوان لڑکی کام کرتی تھی۔ اس کا چھرہ ہمیشہ ترو تازہ اور چمکتا رہتا تھا۔،بال بھی چمکدار گھنے۔ اس سے پوچھا تم کیا لگاتی ہو۔ تمھارا چہرہ اتنا خوبصورت کیوں ہے؟ کہنے لگی، ہم لوگ بہت غریب ہیں ،کبھی صابن بھی استعمال نہیں کیا۔ میرا باپ کولہو سے سرسوں کی کھل لے آتا ہے۔ ماں رات کو ایک ٹکڑا مٹی کے پیالے میں بھگو دیتی ہے۔ ہم اسی سے منہ دھوتے اور اسی سے بال صاف کرتے ہیں۔ تیل کبھی نہیں لگایا۔ سرسوں کی کھل چکنی ہوتی ہے۔ اس سے بال گھنے اورلمبے ہو جاتے ہیں۔
سرسوں کی کھل میں تیزی ہوتی ہے، اسی لیے ہم اسے  استعمال نہیں کرتے۔ بادام اور تلوں کی کھل اچھی ہوتی ہے، اسی سے ابٹن بناتے ہیں۔ آپ کینو، مالٹے کے چھلکے جمع کرکے سکھا لیں۔ ان میں دو چار لیموں کے چھلکے بھی شامل کر لیں۔ ایک چمچہ لے کر پانی میں بھگوئیے۔ آپ دودھ میں بھی بھگو کر چہرے پر لگا سکتی ہیں۔ آہستہ آہستہ مل کر اتارئیے۔ منہ اچھی طرح دھو کر خشک کریں۔ تھوڑا سا عرقِ گلاب لے کر چہرے پر لگائیے۔ گھر میں پپیتا آئے تو چھلکا اتار کر ایک پھانک لیں، اسے چمچے سے کچل کر چہرے پر لگائیں۔ دس پندرہ منٹ بعد منہ دھو لیں۔ پپیتا بھی چہرے کوصاف کرتا ہے۔ آڑو لے کر آدھا کاٹ لیں۔ اس کا چھلکا اتار کر اسے چمچے سے خوب مسل لیں۔ ایک چمچہ خشک دودھ ملائیں اور چہرے پر لگا لیں۔ سوکھنے پر آہستہ آہستہ مل کر اتار دیں۔ آڑو کے اسکرب کی طرح کام دے گا

No comments:

Post a Comment

Blogger Gadgets